TradingBook LogoTradingBook

حلال یا حرام

شیئرز، میوچل فنڈز اور کرپٹو پر زکوٰۃ کا حساب کیسے کریں؟

آخری نظرِ ثانی:

مختصر جواب

نصاب سے زیادہ مال پر قمری سال گزرنے کے بعد سرمایہ کاری کے اثاثوں پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ واجب ہے۔ علماء عموماً تجارت کے لیے رکھے شیئرز کی مارکیٹ قیمت پر، اور طویل مدت کے شیئرز پر کمپنی کے قابلِ زکوٰۃ اثاثوں میں آپ کے حصے پر زکوٰۃ کا حساب بتاتے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے شیئرز کے ڈیویڈنڈ سے زکوٰۃ منبع پر کٹ جاتی ہے، الا یہ کہ آپ CZ-50 ڈیکلریشن جمع کرائیں۔

بنیادی باتیں

  • شرح: قابلِ زکوٰۃ مال کا ڈھائی فیصد۔
  • نصاب: ساڑھے سات تولے سونے یا ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت؛ بہت سے علماء نقدی اور سرمایہ کاری کے لیے چاندی کا نصاب لیتے ہیں کیونکہ یہ کم ہے۔
  • حولانِ حول: مال پر ایک قمری سال گزرنے پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؛ اکثر لوگ ہر سال ایک مقررہ تاریخ پر حساب کرتے ہیں۔

شیئرز: دو عام طریقے

شیئرز کس نیت سےعام طریقہمثال
تجارت یا دوبارہ فروخت کے لیےزکوٰۃ کی تاریخ پر مارکیٹ قیمت کا ڈھائی فیصد4 لاکھ کے شیئرز → 10,000 روپے
طویل مدت، ڈیویڈنڈ کے لیےکمپنی کے قابلِ زکوٰۃ اثاثوں (نقدی، واجب الوصول، اسٹاک) میں آپ کے حصے کا ڈھائی فیصداگر 40 فیصد اثاثے قابلِ زکوٰۃ ہوں: 4 لاکھ × 40% × 2.5% = 4,000 روپے
شک کی صورت میںبہت سے علماء احتیاطاً مارکیٹ قیمت والا طریقہ بتاتے ہیں—

میوچل فنڈز اور کرپٹو

  • میوچل فنڈ یونٹس: زکوٰۃ کی تاریخ پر یونٹس کی نیٹ ایسٹ ویلیو پر زکوٰۃ؛ بعض اسلامی فنڈز فی یونٹ قابلِ زکوٰۃ حصہ بتاتے ہیں۔
  • کرپٹو (جو علماء اسے مال مانتے ہیں ان کے نزدیک): سرمایہ کاری کے طور پر رکھا ہو تو زکوٰۃ کی تاریخ پر مارکیٹ قیمت کا ڈھائی فیصد۔ جو علماء کرپٹو کو ناجائز کہتے ہیں، جیسے جون 2026 کا دارالعلوم کراچی کا فتویٰ، وہ اسے قابلِ زکوٰۃ مال سمجھنے کے بجائے اس سے نکل جانے کا کہتے ہیں۔
  • بچت کے طور پر رکھا سونا: مارکیٹ قیمت کا ڈھائی فیصد، اور نصاب میں شمار۔

پاکستان میں منبع پر زکوٰۃ کی کٹوتی

زکوٰۃ و عشر آرڈیننس کے تحت کمپنیاں مسلمان شیئر ہولڈرز کے ڈیویڈنڈ سے منبع پر زکوٰۃ کاٹتی ہیں — نوٹسز میں عموماً شیئر کی ادا شدہ قیمت پر ڈھائی فیصد لکھا ہوتا ہے۔ بعض بچت اکاؤنٹس اور فنڈ یونٹس پر بھی ایسی کٹوتی ہوتی ہے۔ اگر آپ زکوٰۃ خود ادا کرنا چاہتے ہیں یا مستثنیٰ ہیں (مثلاً کسی دوسرے فقہی مسلک کے تحت) تو بک انٹری والے شیئرز کے لیے اپنے بروکر یا CDC کو، اور فزیکل شیئرز کے لیے کمپنی کے شیئر رجسٹرار کو CZ-50 ڈیکلریشن جمع کرائیں۔

دوہری ادائیگی سے بچیں

  • اگر ڈیویڈنڈ سے زکوٰۃ کٹ چکی ہو تو اپنی زکوٰۃ کے حساب میں اسے منہا کریں۔
  • CDC، فنڈز اور بینکوں کے سالانہ اسٹیٹمنٹ محفوظ رکھیں جن میں کٹوتی درج ہو۔
  • اگر آپ کا حساب کا طریقہ کٹوتی کی بنیاد سے مختلف ہو تو کسی عالم سے پوچھیں۔

عام سوالات

CZ-50 فارم کیا ہے؟

غیر عدالتی اسٹامپ پیپر پر زکوٰۃ ڈیکلریشن جس کے ذریعے اہل شخص درخواست کرتا ہے کہ اس کی بچت، شیئرز یا فنڈ یونٹس سے منبع پر زکوٰۃ نہ کاٹی جائے۔

کیا اسی سال خریدے گئے شیئرز پر زکوٰۃ ہے؟

زکوٰۃ تاریخ پر آپ کے پاس موجود تمام قابلِ زکوٰۃ مال پر حساب ہوتی ہے، بشرطیکہ آپ کا مال سال بھر نصاب سے اوپر رہا ہو، چاہے کچھ شیئرز حال ہی میں خریدے ہوں۔

کیا روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پر زکوٰۃ ہے؟

زکوٰۃ آپ کے پورے مال پر ذاتی فریضہ ہے جس میں RDA بیلنس بھی شامل ہے۔ منبع پر کٹوتی اکاؤنٹ اور پروڈکٹ پر منحصر ہے؛ بینک سے پوچھیں۔

ٹریڈرز کیا کہہ رہے ہیں

کمیونٹی سے پوچھیں

اس موضوع پر ابھی کوئی پوسٹ نہیں۔ اپنا تجربہ شیئر کریں، وہ یہاں نظر آئے گا۔

حوالہ جات

  1. PSX — Company notice on zakat deduction from dividends
  2. Easypaisa — Zakat Declaration Form CZ-50

یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے ہے، مالی، قانونی یا شرعی مشورہ نہیں۔ قواعد بدلتے رہتے ہیں؛ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے دیے گئے بنیادی حوالہ جات دیکھیں اور کسی مستند مشیر یا عالم سے رجوع کریں۔ ٹریڈنگ میں توقع سے زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔